!پھینک دو

 وہ کہتے ہیں دل کی دھڑکن 

کو نکالو اور پھینک دو

وہ کہتے ہیں یہ سامان

کسی کام کا نہیں

جو تم ساتھ ساتھ لئے پھرتے ہو

جسکی حفاظت تم نے فرض سمجھی

وہ اب اک ویرانہ ہے

وہاں کچھ بھی باقی نہیں رہا

اسے چھوڑ دو

اسے پھینک دو


میں کہتا ہوں

تم نے کبھی محبت کی بھی ہے؟

یا شاید تم سےمحبت کی نہیں گئی

اگر یہ احساس کبھی ملا ہوتا

تو تمہارے لفظ کبھی 

اتنے زہریلے نہ ہو پاتے

تم دنیا کے پوجنے والے

اِک ٹوٹے کیواڑ کا مول کیا جانے

جو کبھی ایک ماں کے آنگن کا 

پتہ دیتا تھا

تم خودپرست لذتوں کے مارے

اِک پرانےصندوق کا مول کیا جانے

جس میں ماضی کے نہ جانے کتنے 

سنہری لمحے  بند پڑے ہیں

جس میں سے اب بھی

َََِاِک باپ کی خوشبو آتی ہے


ان پر ترس آتا ہے 

جنہیں کبھی وہ محبت نصیب نہ تھی

جو وجود کا حصہ بن جائے 

لمحہ لمحہ ہر نصیحت بن کریاد آئے

تو ہاں میں ضرور پھینک دوں گا

ان سب کو اپنی زندگی سے باہر

جنہیں میرے وجود 

اور اسکی یادوں سے کوئی 

سروکار نہیں

Comments

Popular posts from this blog

3 Days to Remember (The Last Jalsa Salana in Rabwah)

Choice

The Future of Humanity and AI: A Journey Beyond the Known