میری سحر

جب  کچھ نہ تھا تب ملی امیدِ سِحر
خدا نے دی جیسے خود ہی نویدِ سِحر

خوشی ملی جو برسوں  روٹھ گئی تھی
سکوں جیسے ملتا ہے دعائے وقتِ سِحر

اَن گِنَت غموں سے ٹوٹا پڑا تھا میں
بنی مَرھَم جیسی  وہ اک  نسیمِ  سِحر

دعا بس یہی ہے میری ربِ رحیم سے
پُر مُسّرت رہے تمہاری ہر گھڑی ہر سِحر

Comments

Popular posts from this blog

میرے بھائی منور احمد ندیم

My Brother Munawer Ahmad Nadeem

3 Days to Remember (The Last Jalsa Salana in Rabwah)