ہمارے سجن ہمارے اپنے

ہمارے سجن ہمارے اپنے!

ہم لوگ ایک دوسرے کے دوست ،رشتہ دار، خیر خواہ ۔شاید یہ سب خام خیالی ہی ہے۔ کیونکہ جب بھی انسان کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا کہیں نہ کہیں خود غرضی ہی نظر آئی۔  مقابلہ تو ہم کرتے ہی ہیں ۔ اسکے پاس یہ ہےتو میرے پاس یہ ذیادہ بہتر ہے۔ لیکن مجھے جو بات سب سے ذیادہ تکلیف دیتی ہے وہ یہ کہ جب لوگ (شایداپنے) جھوٹ بولتے ہیں اور ہم سب کچھ جانتے ہوئے بھی ان کو وہ کرنے دیتے ہیں جو وہ چاہتے ہیں۔ مجھے تکلیف ہوتی ہے جب لوگوں کے ”معصوم“ سوال بظاہر اتفاقی ہوتے ہیں لیکن جب یہ اتفاق ایک ہی طرح کے حالات میں بار بار ہوں تو وہ اتفاق نہیں بلکہ منصوبہ بند ی کی نشاندہی کرتے ہیں۔ انسان سوچنے لگتا ہے آخر کیوں ۔۔۔ اسنے ان کا کیا بگاڑا ہے جو ان کو جھوٹ اور فریب کا سہارا لینا  پڑا ۔

دل تو یہی کہتا ہے کہ تم جن لوگوں کو اپنا سجن سمجھ بیٹھے تھے وہ کبھی تھے ہی نہیں۔ اور اب جب انسان اپنے ماضی کی طرف دیکھتاہے تو اسے  یقین ہوتا جاتاہے کہ ان لوگوں نے کبھی بھی اسکا ساتھ نہیں دیا۔ تب بھی جب اس نے ان سے مدد مانگی اور تب بھی جب وہ دکھ کی انتہائی گہرائیوں میں تھا۔ تو اب کیسے دینگے۔جو لوگ دوسروں کا دکھ میں ساتھ نہیں سے سکتے وہ سکھ میں کیا دینگے۔ ان کو اس شخص کی تکلیف کبھی بھی نظر نہیں آئی کیونکہ وہ خود غرض لوگ تھے اور ہیں ۔

جو لوگ انسان کو پیسے کے ترازو سے تولتے ہوں ان کی ہر بات میں کسی نہ کسی طرح پیسے کاذکر ضرور آجاتا ہے اور ان کو پتہ بھی نہیں چلتا۔ کوئی ایک فقرہ وہ کسی چیز کی قیمت بتائے بغیر ادا نہیں کر سکتے ۔ مجھے ایسے لوگوں سے گھن آتی ہے۔ ان کی باتوں سے مجھے متلی ہونے لگتی ہے۔ اور ان کی شکلوں سے نفرت۔ ایسے لوگوں کی وہ امیدیں جو وہ آپ سے لگائے بیٹھے ہوں اگر پوری نہ ہوں تو آپکا جینا حرام کر دیتے ہیں ۔ آپ کی عزت نفس کو مٹی میں ملانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے اور آپ کو تکلیف میں دیکھ کو ان کو تسکین ملتی ہے۔ ان لوگوں کی پہچان ان کی زبان جو کبھی بھی کاٹنے سے باز نہیں آتی اور اس سے کبھی خیر کا کلمہ نہیں نکلتا ۔  

ان لوگوں کی زندگی دکھاوے میں ہی گزری اور گزرتی رہے گی۔ ہر وقت دل میں مقابلہ اور حسد کی آگ ان کو بھی سکون سے نہیں رہنے دیتی اور وہ مجبور ہیں اپنی فطرت کے ہاتھوں کہ اور آگ لگائیں اور اسمیں خود بھی اور جلیں۔زندگی میں جو رشتہ جتنے قریبی ہوتے ہیں ان کی تکلیف دینے کی اہلیت بھی اتنی ہی زیادہ۔افسوس کہ انسان کے سب سے قریب رہنے والے ہی عموماََ اس کی جڑیں کاٹنے واے ہوتے ہیں۔ جب کبھی دین اور فہم کی تقریر کرنی ہو تو آپ ان کی آواز سب سے بلند پائیں گےمگر افسوس کہ سب کھوکھلا اور دکھاوا۔  اپنی ذات کی خواہشوں کی تسکین کےلئے ہر عمل ان کے لئے جا ئز بن جاتاہے   اور کو ئی حدان کو روک نہیں سکتی۔

ایسوں کا انجام بھی ہم نے دیکھا اور کیسے ان کواِن لوگوں نے ولی اللہ بناکر دنیا کے سامنے پیش کیا   یہ بھی دیکھا حالانکہ وہ سب جانتے تھے ۔ مگر خدا تو ان کی حقیقت جانتا ہے کہ وہ کس قدر ظالم اور خود غرض تھے اور آپکے چپ رہنے کا یہ صلہ ملا کہ اب بھی وہ آپکی جڑیں کاٹنے میں ہمہ تن مصروف عمل  ہیں۔  ہم نے دنیا کے مسائل کیا حل کرنے جب ہمارے (اپنے)ہی  اپنے نہیں ۔  یہ سب فلاسفیاں اور علمیت کے پلندے کس کام کے جب وہ اپنے ہی دل کو نہ صاف کرسکے۔         

مجھے انسان سے بہت شکوہ ہے ۔ خدا تعالیٰ نے کونسی خوبی نہیں جو اسے عطا نہ کی ہو مگر اس کا رخ غلاظت کی طرف اور اسکا عمل تخریبی ہی رہا۔       

نوٹ :اس مضمون کا نام پہلے چالاک لوگ تھا۔   
     
Post a Comment

Popular posts from this blog

A look at the extremist mindset of Pakistan (The Maya Khan incident)

Outcasts - The Ahmadis of Pakistan

Feelings of an Ahmadi enduring endless Persecution

My Mother - Amtul Hafeez Begum

First job at MTA Pakistan

Rohan - Part 2

3 Days to Remember (The Last Jalsa Salana in Rabwah)

Rohan - Part 1

کچھ تلخ باتیں