Posts

Showing posts from June, 2026

سکون

  جانے دو بس اب جانے دو سوچوں کو اب آنے دو وہ پل اب یادوں ہی میں بس جانے دو جن کی راہ تکتے رہے رات بھر اب انہیں سو جانے دو اپنی کم شناسی کو اپنی اس اداسی کو تھکن سمجھ کر  کھو جانے دو وہ دل جو کچھ نہ چاہے اسے راحت کی کیا طلب اسے تو بس سکوں کی جا میں بس جانے دو آرزو تو بس یہی ہے میری کہ کہوں خدا سے  راضی ہوں تیری رضا پر  تو مجیب اور میں منتظر