سکون
جانے دو بس اب جانے دو
سوچوں کو اب آنے دو
وہ پل اب یادوں ہی میں
بس جانے دو
جن کی راہ تکتے رہے رات بھر
اب انہیں سو جانے دو
اپنی کم شناسی کو
اپنی اس اداسی کو
تھکن سمجھ کر
کھو جانے دو
وہ دل جو کچھ نہ چاہے
اسے راحت کی کیا طلب
اسے تو بس سکوں کی جا
میں بس جانے دو
آرزو تو بس یہی ہے میری
کہ کہوں خدا سے
راضی ہوں تیری رضا پر
تو مجیب اور میں منتظر
Comments