کچھ تلخ باتیں

ہم بعض واقعات اور لمحات کو سینے سے لگا کر تو رکھتے ہیں مگر یہ نہیں سوچتے کہ آیا وہ فیصلے اور ترجیحات درست بھی تھیں کہ نہیں؟ ۔ کہ کہیں اپنے سکون اور خواہش کی تسکین کے لئے خدا تعالیٰ کی بنائی حدیں پار تو نہیں کیں؟ وہ خواہش یا ارادہ کیسے صحیح ہو سکتا ہے جسکی تکمیل کے لئے خدا کی بنائی حدوں کو توڑنا پڑے۔ وہ فیصلے کیسے درست ہوسکتے ہیں جن کی بنیاد خدا کی رضا کے بجائے نفس کی خواہشات ہوں۔یہاں سوال اس بات کا نہیں کہ ان لمحات کے احساسات کیا تھے بلکہ یہ ہے کہ اعمال درست تھے یا غلط۔

کبھی کبھار واپس مڑ کر دیکھنا بھی اچھا ہوتاہے، تاکہ تزکیہ نفس ہوسکے۔ لیکن اسکے لئے ضروری ہے کہ کم از کم یہ احساس تو ہو کہ غلطی تھی۔ ہم لوگ دوسروں کو اور ترازو سے تولتے ہیں اور اپنے لئے ہمارے معیار کچھ اور ہوتے ہیں ۔ اوروں کو تو شاید ہم ان غلطیوں کے لئے جو ہم نے خود بھی کی، کبھی معاف نہیں کرتے۔

کیوں لوگ اپنے تعلقات سے خوش نظر نہیں آتے۔ کیوں اِدھر ادھر سکون ڈھونڈتے پھرتے ہیں لیکن گھروں میں سکون تلاش نہیں کرتے؟ بنیاد ہے نفس اور اسکی خواہشات۔ جب انسان اپنی زندگی کو خدا کی رضا کے بجائے خواہشات کے طابع کریں گے تو یہی ہوگا۔ اکثر یہ بھی سننے کو ملا کہ شاید خدا یہی چاہتا تھا تو ہم نے یہ کیا۔۔ یعنی انسان نے کتنی آسانی سے اپنے سب اعمال کو خدا کے کھاتے میں ڈال دیا۔ خدا تعالیٰ نے انسان کو ایک  صفت دی ہے جسے خودمختاری بھی کہہ سکتے ہیں ۔ اگر سب کچھ خدا تعالیٰ کے کھاتے میں ہےتو حساب کس بات کا؟

انسانی تعلقات کی بنیاد باہمی اعتبار اور بھروسہ ہے اور اسکی کہیں زیادہ اہمیت ان تعلقات کے ساتھ ہے جو آپکی زندگی میں زیادہ قریب ہوتے ہیں جیسا کہ میاں بیوی کارشتہ ۔ مجھے ایک   دوست نے کہا کہ اگر کوئی بات یا عمل ایسا ہو جو انسان کو چھپانا پڑے تو وہ کسی صورت درست نہیں ہوگا۔ یعنی وہ عمل جس کا اثر براہ راست دو انسانوں کےباہمی تعلق پر ہوتا ہے۔

اگرانسان اپنے رشتوں کی قدر کرتا ہو اور انہیں بچانا چاہتا ہو تو وہ اس بات کی فکر کرے گا اور ان تمام معاملات میں اپنے نفس کے ساتھ ساتھ دوسروں کے جذبات کو بھی ملحوظ خاطر رکھے گا۔ سب سے پہلے تو یہ ضروری ہے کہ انسان اپنی توقعات کو محدود کر لے ۔ بہت سے عائلی مسائل کی بنیاد اسی پر ہوتی ہے کہ توقعات بہت ذیادہ تھیں اور وہ پوری نہ ہوسکیں ۔  ایک   اوربات جو سامنے آتی ہے وہ یہ کہ لوگ اپنے صحیح جذبات سے دوسروں کو آگاہ ہی نہیں کرتے اور یہ توقع کرتے ہیں کہ وہ خود ہی سمجھ جائے ۔ ایسا نہیں ہو تا اور غلط فہمیاں جنم لیتی ہیں جو بڑھتی چلی جاتی ہیں ۔ اس لئے باہمی تعلق میں آپس میں کلام بہت ضروری ہے جسے کبھی بھی منقطع نہ ہونے دیں۔

ہر انسان کی سوچ  مختلف ہوتی ہے جسکی بنیاد  اس شخص کی تربیت، بچپن کا ماحو ل اور بے شمار حالات اور واقعات ہیں جو اس کی زندگی میں آئے ان کے نتیجے میں انسان اپنی زندگی کی فلاسفی یا اصول وضع کرتا ہی اور انہی پر چلتا ہے ۔  ہم اپنے معاملات میں یہ توقع کرتے ہیں کہ دوسرا بھی انہیں اصولوں پر  چلے اور اسکی پسند یا  نا پسند کو اپنے انداز میں تبدیل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔  اسکے نتیجے میں نفسیاتی دباوٴ پیدا ہوتا ہے۔ جو رشتوں میں دڑاڑیں ڈالتا ہے۔ بجائے اسکے کہ اس بات پر توجہ مرکوز کریں کہ ہم میں کیا مختلف ہے اس بات کو اہمیت دینی چایئے کہ ہم میں کیا مشترک ہے۔

یہ تو ہے ان معاملات کی بات جہاں رشتے انصاف کے اوپر مبنی ہوں۔ لیکن وہاں کیا جہاں انصاف ،جذبات کا تقدس اور  احساس نہ ہو وہ کیسے چل سکتے ہیں۔ قصور معاشرہ کا بھی ہے جہاں مادہ پرستی اور خود پسندی کی وجہ سے  ایثار اور حسن سلوک  جیسی صفات  ناپید ہوتی جاتی ہیں۔  آپسی معاملات میں برداشت  اور صلح رحمی مفقودہے۔  لیکن کیا ان سب کا نہ ہونا کسی کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ ان کے مترادف کے طور پر اپنی ذات کی تسکین کے لئے وہ راستے اپنائے جن سے خدا نے منع فرمایاہے؟

وہ لوگ جو ایسے حالات میں ہوں جہاں دوسرا فریق عزت کرنے والا نہ ہو اور وہ اسکے ہاتھوں اذیت کا شکار ہوں ،وہ اپنی اس کیفیت کا اظہار اپنے قریبی عزیزوں سے بھی نہیں کرتے لیکن اپنی زندگی کی محرومیوں کی تلافی کے لئے غلط راہ پر چل پڑتے ہیں۔ مخفی دوستیاں ایک   بیساکھی سے ذیادہ کچھ نہیں ان سے زندگی کے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ ان میں مزید اضافہ ہوتا ہے کیونکہ ان کی وجہ سے ایسی خواہشات جنم لیتی ہیں جن کو پورا نہیں کیا جا سکتا اور اگر پورا کیا جائے تو گھر ٹوٹ جاتا ہے۔ اس سے انسان کے احساس محرومی میں بھی اضافہ ہو تا ہے کیونکہ اس رابطہ سے تو بظاہر اسکے نفس کی تسکین ہو رہی ہوتی ہے لیکن وہ رشتے جن کی محرومی کی وجہ سے یہ سب سلسلے شروع ہوتے ہیں وہ وہیں کے وہیں کھڑے رہتے ہیں یا مزید پستی کی طرف چل پڑتے ہیں۔   وہ وقت جو اپنے زندگی کے مسائل کو حل کرنے اور اپنے رشتوں کو صحیح ڈگر پر چلانے میں صرف ہونا چاہئے تھا وہ ایک  فرضی رشتہ کی نظر ہوجاتا ہے ۔

رشتہ ازدواج کا مقصد صرف انسانی ضروریات کا پورا کرنا ہی نہیں۔ یہ ایک   عقدمدنی ہے جہاں اسکے ذریعہ سے پورے معاشرے کو انتہائی پستی سے بچانا مقصودہے۔ یہ ایک   وعدہ ہے جو فریقین کو ایک   دوسرے کی عزت اور آبرو کا محافظ بناتا ہے۔ اسکے ساتھ یہ  ایک   دوسرے کے ساتھ غیر منقسم اور کامل محبت کی ضمانت بھی ہے۔ آج کے دور میں ذرائع ابلاغ کی  ترقی نے  جہاں بے شمار فوائد پیدا کئے وہاں چند نقصانات بھی ۔ ان میں سے سب سے بڑا نقصان  روابط کے وہ ذرائع ہیں جن میں تعلقات مخفی رکھنے کے بے شمار مواقع ہیں۔  یہ مواقع انسان کو اس غلط فہمی میں مبتلا کر دیتے ہیں کہ وہ کچھ بھی کر سکتا ہے اور جواب دہ نہیں ۔ وہ مقام جہاں انسان خود کو اکیلا سمجھے وہ شرک کا اسفل ترین مقام ہے۔

اپنے اردگرد دیکھئے آپ کو لوگ ناخوش اور اچھے بھلے بستے گھر ٹوٹنے کی دہلیزپر نظر آئیں گے، اسکی وجہ ہے رشتوں کی قدر نہ کرنا اور اپنے نفس کی تسکین کوہر بات سے اہم سمجھنا ہے۔ ایسے گھرتو تباہ ہوتے ہی ہیں ان کی اولادیں بھی اسی عمل کی پیرو نظر آتی ہیں ۔ یہ ہم سب کے لئے ایک   لمحہ فکریہ ہے کہ ہم اپنے اعمال سے اپنی اولادوں کو کیا سکھا رہے ہیں۔



Post a Comment

Popular posts from this blog

A look at the extremist mindset of Pakistan (The Maya Khan incident)

Outcasts - The Ahmadis of Pakistan

Feelings of an Ahmadi enduring endless Persecution

First job at MTA Pakistan

Rohan - Part 2

3 Days to Remember (The Last Jalsa Salana in Rabwah)

Rohan - Part 1

My Mother - Amtul Hafeez Begum

Somber Eid